بازار جانا اور دوکان پر بضرورت بیٹھنا چلتے پھرتے کھانے کا حکم
سوال
بازار میں جانا اپنے مسلمان دوست کی دوکان پر بیٹھ کر وقت گزارنا کیا نا جائز ہے، اور شارع عام پر فالتو کھانے پینے کے بارے میں بھی تحریر فرمائیں، کیا حکم ہے، علماء حفاظ کے لئے بھی کوئی حکم اس بارے میں ہو تو تحریر فرمائیں؟
جواب
اگر کوئی عالم اہل فتوی اس لئے جائے کہ کسی کی دوکان پر بیٹھ کر دوکاندار اور خریدار کے معاملات دیکھے اور غور کرے کہ یہ معاملات شرعی حد کے اندر ہیں، یا خارج اور معاملات میں عرف کیا ہے، تاکہ شرعی احکام میں بصیرت ہو تو شرعاً درست ہے، محض وقت گذاری اور تفریح کے لئے نہیں بیٹھنا چاہئے، بازاروں کو مقاعد الشیاطین فرمایا گیا ہے، اہل علم اور فتوی کے لئے زیادہ غیر موزوں ہے، کوئی شخص اگر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔