قول امام کے خلاف اگر حدیث موجود ہو تو مقلد کیا کرے
سوال
امام صاحب کے قول کے مقابل میں حدیث صحیح ہو۔ راوی حدیث بیان کرنے والے تقریباً چار سے زائد ہوں اور راوی ثقہ ہیں۔ راویوں کی بالکل ایک ہی دلیل رسول اللہ ﷺ سے صحیح حدیث بیان کرتے ہیں اور صحیح حدیث بخاری کی موجود ہے تو ایک شخص امام کا قول ترک کر کے احادیث پر عمل کرتا ہے تو اب آپ سے فتویٰ چاہتا ہے۔ برائے مہربانی فتوی ارسال فرماویں۔
جواب
یہ بات تو ممکن ہے کہ امام اعظمؒ نے جو مسئلہ بیان فرمایا ہے بخاری شریف کی کوئی حدیث اسکے خلاف ہولیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ امام اعظم کا مسئلہ بلا دلیل ہو اتنا تو غور کیجئے کہ صحیح حدیث جب کسی مسئلہ میں موجود ہو تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک رائے (قیاس) جائز نہیں۔ پھر یہ کہنا کہ ان کا قول (رائے)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔