تقلید کی شرعی حیثیت
سوال
تقلید کی شرعی حیثیت کیا ہے نیز اگر تقلید ضروری ہے تو شخصی تقلید کیوں ضروری سمجھی جاتی ہے۔ اگر کسی مسئلہ میں کسی امام کی تقلید کی جائے کسی میں کسی یعنی غیر معین امام کی تقلید کی جائے تو اس میں کیا حرج ہے علماء اسے کیوں منع کرتے ہیں جب کہ چاروں ائمہ کا مسلک درست تسلیم کیا جاتا ہے۔
جواب
اما بعد! اصالۃً ہدایت کا سر چشمہ قرآن پاک ہے۔ هُدًى لِلنَّاسِ لیکن اس میں عموماً بنیادی اصول اور مسائل بطور ضابطہ کلیہ بیان کئے گئے ہیں تفصیلات اور فروع کا بیان کرنا حضرت نبی کریم ﷺ کے سپرد ہے۔ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِلَ إِلَيْهِمْ تا کہ جو مضامین لوگوں کے پاس بھیجے گئے ہیں ان کو آپ ان سے ظاہر کر دیں۔ (بیان القرآن) مثال ۱: قرآن پاک میں ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔