بعض مسائل میں دوسرے امام کے مذہب پر عمل کرنا شاہ ولی اللہ صاحب کیا مقلد تھے؟
سوال
جو شخص حنفی کہلا کر بعض مسائل اختلافیہ میں مسائلِ شافعیہ وحنابلہ پر اپنی تحقیق کی بنا پر عمل کرے تو وہ حنفیت سے نکل جائے گا یا نہیں؟ حالانکہ امام ولی اللہ صاحب انفاس العارفین ص۷۰ میں لکھتے ہیں۔ ”مخفی نماند که حضرت ایشاں ای عبدالرحیم صاحب دہلوی در اکثر امور موافق مذہب حنفی عمل می کردند الا بعض چیز ها که بحسب حدیث یا وجدان بمذہب دیگر ترجیح می یافتند از ان جمله آنست که در اقتداء سوره فاتحه می خواندند ودر جنازه نیز (دیکھو کتاب حزب امام ولی اللہ صاحب دہلوی کی اجمالی تاریخ کا مقدمہ ص ۱۶۰)
جواب
اگر کوئی حنفی اپنی وسعتِ نظر، جودت فہم، صفائی باطن یا کسی اور داعیہ قویہ کی بناء پر کسی دوسرے امام کی دلیل کو قوی سمجھ کر اس پر عمل کرے تو وہ شخص حنفیت سے خارج نہیں ہوگا اور قوت داعیہ کے موافق وہ شخص معذور ہوگا اور دوسروں کو اس کا اتباع جائز نہیں ہوگا اور اس کی نظیریں مذاہب اربعہ میں موجود ہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔