الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تفہیم القرآن کا حکم، ڈاڑھی کی حد شرعی

سوال

ولا تصل على احد منهم مات ابداً ولا تقم على قبره (سوره توبه) اس آیت کی تفسیر میں سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب نے اپنی تفسیر تفہیم القرآن میں لکھا ہے کہ اس سے یہ مسئلہ نکلا کہ فساق و فجار اور مشہور بالفسق کی جنازے کی نماز نہیں پڑھی جائے گی، یہ عبارت بعینہ تفہیم القرآن کی تو نہیں ہے لیکن اس کا مفہوم یہی ہے، اس تفسیر کو لے کر کچھ لوگوں نے ہماری بستی میں یہ اعلان کیا کہ جو شخص نماز نہیں پڑھے گا اس کے جنازے کی نماز نہیں پڑھی جائے گی اور قبر کھودنے والوں پر یہ پابندی عائد کی گئی کہ جو قبر کھو دیگا اس پر پندرہ روپے جرمانہ…

جواب

(۱) نماز فرض عین ہے، بے نمازی سخت گنہ گار ہے، نماز جنازہ اس کی بھی ضروری ہے۔ (۲) ولا تصل على احد منهم مات ابداً منافقین کے متعلق ہے عبداللہ بن ابی ابن سلول رئیس المنافقین کا واقعہ کتب حدیث و تفسیر میں بہت مشہور و معروف ہے کہ اسکے انتقال پر حضرت نبی کریم ﷺ نے اس کے جنازے کی نماز پڑھائی تب یہ آیت شریفہ نازل ہوئی، پھر کسی منافق کے جنازے کی نماز نہیں پڑھائی۔ (۳)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو