مطل الغني ظلم
سوال
(۱) بعض مالدار لوگ جن کے پاس عالی شان بلڈنگ ہے، باغات ہیں اراضی ہیں، اس کے باوجود وہ قرض خواہوں کا قرضہ ادا نہیں کرتے ہیں، بلکہ چھڑوانے کے درپے رہتے ہیں، کیا وہ مطل الغنی ظلم کے تحت ظالم نہیں؟ (۲) اس طرح کے اقدامات سے معاملات کے اندر نادہندگی کا ایک بہت غلط راستہ کھل رہا ہے، جو پوری مارکیٹ کے لئے مہلک ہے،تو کیا ایسے اغنیاء ”من سن سنة سيئة فله وزرها ووزر من عمل بھا“ کے مصداق نہیں ہیں؟ (۳) ایسے اغنیاء کا جملہ کا مطالبہ میں کچھ دینا اس شرط پر کہ جملہ مطالبات کی رسیدات بھر پائی لکھدو، تو ان کا یہ عمل شرعاً کیسا ہے؟
جواب
”مطل الغنی ظلم الحدیث“ اور دوسری روایت میں ہے کہ ”لی الواجد يحل عرضه، وعقوبته“ اس لئے قرض خواہوں کا قرض جلد سے جلد ادا کرنا لازم ہے، اپنے گذارہ میں تنگی و ترشی برداشت کر کے ادا کرنا چاہئے، ایک صحابی کے ذمہ قرض ہو گیا تھا، حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا تمام مال فروخت کر دیا، تا کہ قرض ادا کر دیا جائے، حتی کہ وہ صحابی خالی رہ گئے، ان کے پاس کچھ بھی نہ رہا۔ (۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔