قرض اس کی جنس سے ہی ادا کیا جائے
سوال
زید نے عمر سے تنگ دستی کی وجہ سے ایک من جو قرض لئے تھے، اس وقت بھاؤ بھی ۲۰ روپیہ تھا اب اسکو دو سال کا عرصہ ہو گیا، عمر اپنے غلہ کا تقاضہ کرتا ہے، اور کہتا ہے کہ میں نے تو چالیس روپے کے بھاؤ لگا لیا ہے، تو عمر کو یہ لینا اس طرح سے درست ہے یا نہیں؟
جواب
ایک من جو قرض لئے ہیں، ایک من جوہی کی واپسی لازم ہے، اس کی قیمت کا واپس کرنا لازم نہیں، خواہ کچھ ہی نرخ ہو پس چالیس روپے قیمت لگا کر وصول کرنے کا حق نہیں، الاقراض تقضى بامثالها۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔