قرض ادا کرتے وقت کچھ زیادہ دینا
سوال
مالا بد منہ میں ہے کہ حضور ﷺ جب کسی سے قرض لیا کرتے تھے، تو کچھ زیادہ دیا کرتے تھے، تو یہ زیادہ دینا بخوشی کیسا ہے، لینے والے کے لئے تو سود نہیں ہو گا؟
جواب
جس سے قرض لیا جاوے، واپس کرتے وقت کچھ زیادہ دینا یہ کہہ کر کہ اتنا آپ کا اصل مطالبہ ہے اتنا میری طرف سے زائد ہے، یہ حدیث پاک سے ثابت ہے، لیکن قرض دینے والے کو پہلے سے اس کا لالچ اور خیال نہ ہونا چاہئے کہ زیادہ ملے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔