مقروض کے تین حالات
سوال
زید نے تین شخصوں کا بیان کیا جو قرضدار مر جاتے ہیں، ان کا قرض اللہ کے ذمہ ہے۔ (۱) کسی شخص کے کفن کے لئے کسی شخص سے دینے کی نیت سے قرض لیا اور وہ بوجہ غربت یا اتفاق سے مرجانے کی وجہ سے ادا نہ کر سکا۔ (۲) کسی شخص کو شادی کی خواہش ہے اگر شادی نہیں کرتا تو زنا میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے، چونکہ وہ مفلوک الحال ہے اس لئے قرض لیا اور دے نہ سکا۔ (۳)
جواب
زید نے اس مسئلہ میں بڑی تنگی کر دی فتاوی عالمگیری میں تو یہ قید نہیں بلکہ اس میں تو مطلقاً لکھا ہے کہ جو شخص کسی ضرورت و پریشانی سے مجبور ہو کر قرض لے اور نیت یہ ہو کہ اس کو ادا کر دوں گا، پھر باوجود کوشش کے ادا کرنے کی قدرت و وسعت نہ ہوئی، اور اسی حال میں انتقال ہو گیا، تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے آخرت میں مواخذہ نہ فرمائینگے ایسا ہی مضمون اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے،…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔