الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مبیع مقدار معین سے کم یا زائد نکلے

سوال

مسمی عبدالرحمن نے ایک کپڑا بیس گز ایک روپے چار آنہ کا فروخت کیا وہ کپڑا پونے بیس گز ہوا خریدار نے ایک روپیہ چار آنہ نہیں دیا بلکہ چار گرہ کے دام کاٹ کر دیتا ہے، چوتھائی آنہ دیتا ہے مسمی عبدالرحمن خریدار کو کہتا ہے کہ چار گرہ دام نہ کاٹ مگر خریدار نے ضرور کاٹ لئے اسکے بعد مسمی عبدالرحمن ایک کپڑا بیس گز اور فروخت کرنے گیا اس کی قیمت بھی ۴ عصہ آنے قرار پائی، مگر جس وقت نا پا تو سوا بیس گز ہوا اب خریدار کہتا ہے کہ میں تو پورے بیس گز کے دام دونگا، سمی عبدالرحمن نے ہر چند کہا مگر اس نے پورے بیس گز کے دام عہ دیئے چار گرہ…

جواب

اگر بیس گز کپڑا فروخت کیا اور مجموعہ کی قیمت ۴عہ بتائی اور فی گز کے حساب سے کوئی قیمت نہیں بتائی اور معاملہ ایجاب و قبول سے پختہ کر دیا اور ناپنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ بیس گز سے کچھ کم مثلاً پونے بیس گز ہے تو خریدار کو قیمت کاٹنے کا اختیار نہیں بلکہ چاہے پوری قیمت دے کر خریدے اور چاہے واپس کر دے، واپس کرنے کا اختیار ہے، اور اگر ناپنے کے بعد معلوم ہوا کہ بیس گز سے کچھ زائد…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو