بیع میں سامان زیادہ ہو تو کیا کرے
سوال
زید سائیکل مرمت کا کام کرتا ہے، اور سامان دوسرے بڑے دوکاندار سے خرید کر لاتا ہے، ایک مرتبہ سامان لینے گیا تو اس بڑے دوکاندار کے نوکر نے کچھ سامان مالک کی چوری سے زیادہ دیدیا، وہاں تو زید نے کچھ خیال نہیں کیا لیکن گھر آکر بیجک ملایا تو سامان زیادہ نکلا، اب زید پس و پیش میں ہے کہ اگر مالک پر راز افشاء کرتا ہے، تو ملازم کی ملازمت جاتی ہے، اور نہیں کہتا تو مالک دوکان کی چوری ہوتی ہے، لہذا اس معاملہ میں زید کو کیا کرنا چاہئے، سامان کی قیمت ملازم کو دے یا کہ نہ دے؟ جواب تمام باتوں کا قرآن وحدیث کی رو سے عنایت فرمائیں؟
جواب
یہ کہہ کر بڑے دوکاندار کو دے سکتا ہے، کہ حساب میں اتنے روپئے آپ کا میری طرف ہے وہ یہ ہے لے لیجئے، تو یہ صورت بہتر ہے، اگر ایسا نہیں کر سکتا تو ہدیہ کے طور پر دیدے، ملازم کے خیانت کرنے سے وہ سامان زید کے لئے حلال نہیں ہوگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔