قیمت مبیع وصول کرنے کی ایک صورت
سوال
زید کی اراضی بکر نے قیمت متعینہ میں خریدی لیکن بکر نے وقت متعینہ پر پوری رقم ادا نہیں کی لیکن کھیت بکر کے قبضہ میں دیدیا گیا اور بکر پر ابھی چوتھائی رقم باقی ہے، تو اب صورت یہ کی گئی کہ اس فروخت شدہ اراضی سے ڈھائی ایکڑ اراضی علیحدہ تصور کر کے آٹھ سو روپیہ لگان سے اسی کو دیدیتے ہیں، اب بکر سیزن پر باقی ماندہ رقم کے علاوہ اور آٹھ سو روپیہ لگان کے دے گا، تو یہ آٹھ سو روپیہ لینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
یہ صورت جائز نہیں کیونکہ بیع کل اراضی کی ایک معاملہ سے ہوئی اور سب مبیع قراردی گئی ہے، پھر کچھ مخصوص قطع کو غیر مبیع اور ملک بائع قرار دے کر تجویز کر کے مشتری کو جو سب زمین کا بذریعہ بیچ مالک ہو چکا ہے، لگان پر دیا گیا ہے، جس کا حاصل یہ نکلا کہ اب مشتری اپنی ہی ملک کالگان بائع کو دے گا، اب بائع باقی ماندہ چوتھائی قیمت سے زائد لینے کا حقدار نہیں ہے مشتری کو لازم ہے کہ وہ باقی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔