بازار سے خریدی ہوئی دوا کو اپنی بتا کر نفع زیادہ لینا
سوال
اگر کوئی شخص بازار سے ہمدرد کی دوائیں خرید کر مریضوں کو اس نام سے دے کہ گویا یہ دوائیں اپنی دے رہا ہوں، اور اصل محنت سے کئی گنا منافع حاصل کریں، تو یہ درست ہے یا نہیں؟
جواب
ہمدرد کا اگر وہ ایجنٹ نہیں بلکہ اپنے پیسہ سے خرید کر مالک ہوکر دوائیں فروخت کرتا ہے اور نفع لیتا ہے تو یہ درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔