کسٹوڈین کا قبضہ موجب ملک ہے
سوال
والد کی جائیداد کسٹوڈین میں چلی گئی، بعض کا کرایہ دار کسٹوڈین نے مجھے بنادیا اور بعض کا بہنوئی کو ایک مکان جس میں اوپر بہنوئی رہتے ہیں، نیچے میری دوکان ہے، میں نے کوشش کر کے مکان دوکان، بہنوئی کو خریدوا دیا اور بہنوئی نے مجھ سے وعدہ کیا کہ میں تم سے دوکان (تحتانی حصہ) خالی نہیں کراؤ نگا، مگر اب ان کے خیالات بدل گئے ہیں، اور مجھ پر مقدمہ کر دیا ہے، سوال یہ ہے کہ بہنوئی مجھ سے دوکان خالی کرا سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب
حکومت جب قہراً جبراً قبضہ کرلے تو یہ استیلا موجب ملک ہے، اس قاعدے کے ما تحت جن مکانات پر ۴۷ء کے وقت حکومت نے مالکانہ قبضہ کر لیا ان پر حکومت کی ملک ثابت ہوگئی، پھر ان مکانات کو نیلام کر دیا تو جس نے خریدا وہ مالک ہو گیا، جن قطعات کو آپ کے بہنوئی صاحب نے خریدا ہے وہ ان کے مالک ہو گئے آپ نے خریدوانے میں ان کی جو اعانت کی اس کا آپ کو اجر ملے گا، بہنوئی صاحب نے آپ سے وعدہ کیا کہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔