ڈالر کی بیع کمی زیادتی سے
سوال
زید سعودیہ عربیہ میں ملازمت کے دوران ڈالر (کرنسی) خریدتا ہے اور ہندوستان میں جہاں بھی اس کو ڈالر کا بھاؤ اچھا ملتا ہے، اسے فروخت کر دیتا ہے، ایسا کرنے پر اس کو بینکوں کے سرکاری بھاؤ سے کہیں زیادہ فائدہ ڈالر میں مل جاتا ہے، کیا اس کو ایسا کرنا جائز ہے جبکہ ہندوستان کی حکومت غیر اسلامی ہے؟
جواب
اگر ڈالر کی حیثیت وہ ہے جو کہ انڈیا میں نوٹ کی ہے، کہ اصالہ وہ رسید اور حوالہ تھا، اس رقم کا جو اس میں درج ہے کہ اس کے ذریعہ رقم وصول کی جاسکتی ہے، لیکن رفتہ رفتہ اب رقم تقریباً معدوم ہو چکی اور سب جگہ نوٹ ہی رقم کی طرح مستعمل ہے، پس یہ نوٹ بھی اب مبیع بن چکا ہے، اس کی بیع کمی زیادتی کے ساتھ درست ہے تو ڈالر کی بیع بھی کمی زیادتی کے ساتھ درست ہے، مگر اس کا خیال رہے کہ یہ قانونی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔