الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نقد و ادھار کی قیمت میں فرق

سوال

زید مثلاً سینے کی مشین یا ریڈیو وغیرہ کی تجارت کرنا چاہتا ہے اور اس میں یہ رواج ہے کہ نقد فروخت کرنے کی قیمت علیحدہ مقرر کی جاتی ہے، اور قسطوار قیمت ادا کرنے میں قیمت نقد سے زیادہ لی جاتی ہے، تو اس طرح تجارت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر نا جائز ہے تو کیا صورت جواز کی ہو سکتی ہے، کہ زید اپنی دوکان کے دو حصے کر لے ایک میں نقد کا بھاؤ رکھے ایک میں اُدھار کا؟

جواب

اگر مجلس عقد میں ہی نقد یا ادھار کا معاملہ صاف ہو جائے، کہ خریداری نقد ہے، یا ادھار تو اس طرح تجارت درست ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو