اُدھار میں مال کی قیمت زیادہ لینا
سوال
(۱) اگر کوئی شخص بوجہ مجبوری روپیہ ادھار لیتا ہے اور پھر کوئی چیز اس کی ادائیگی میں دیتا ہے تو روپیہ دینے والا شخص بازاری قیمت سے کافی کم قیمت لگاتا ہے، جیسے دھان کی قیمت ۱۶۰رمگر بھاؤ طے کرتا ہے ۱۰۰ روپیہ یہ درست ہے یا نہیں؟ (۲) نقد بیل یا بھینس کی قیمت ۲ ہزار ہے تو ادھار میں کچھ دینے کے بعد بھی دوگنی سے ڈھائی گنی لی جاتی ہے، اس میں لینے والے کا کیا حکم ہے؟
جواب
خرید و فروخت میں اگر قیمت نقد دیجائے تو عموماً وہ کم ہوتی ہے، ادھار کا معاملہ ہو تو قیمت زیادہ ہوتی ہے، شرعاً یہ درست ہے، لیکن زیادہ فرق بے مروتی ہے خاص کر جب کہ خریدار حاجت مند ہو کہ اس کے پاس گزارہ کرنے کے لئے غلہ نہیں ہے، یا کھیتی کا وقت ہے بیل نہیں ہے، نقد ادا کرنے کے لئے روپیہ بھی نہیں ہے، مجبوراً اُدھار لیتا ہے تو وہ مستحق رحم وشفقت ہے، اسکو مجبور اور بے بس پاتے ہوئے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔