قسط پر خریدنا
سوال
کچھ دوکاندار، سائیکل، سلائی مشین انجن وغیرہ قسطوں پر فروخت کرتے ہیں، اور اس کی صورت ایسی ہوتی ہے کہ اکثر سو روپیہ کی قسط ہوتی ہے اور دوسال تک دس روپیہ ماہانہ حساب سے وصول کرتے ہیں، تو اس طریقہ سے وہ ایک سال میں ایک سو بیس روپیہ ہو جاتے ہیں نقدا گر خریدا جائے تو ایک سو روپیہ میں اور قسط وار میں ایک سو بیس روپے دینا پڑتا ہے، یہ جائز ہے یا نہیں؟
جواب
نقد اور ادھار کی قیمت میں عموماً فرق ہوتا ہی ہے، اس میں مضائقہ نہیں، مگر ایسا نہ ہو کہ کسی قسط کے وقت پر ادا نہ ہونے کی صورت میں اس کی چیز سائیکل مشین وغیرہ کی واپسی ہو جائے اور ادا شدہ رقم بھی ضبط ہو جائے کہ یہ نا جائز ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔