الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نقد میں قیمت کم ادھار میں زیادہ

سوال

(۱) عبداللہ نے عبدالغفار سے ماہ جمادی الثانی میں دوکان خریدی، عبدالغفار نے کہا اگر تم آج ہی قیمت دیتے ہو تو کوئی بات ہی نہیں ہے، بازاری قیمت لے لونگا، اور اگر ماہ رجب میں دیتے ہو تو قیمت زیادہ لوں گا۔ (۲) دوسری صورت یہ ہے کہ دھان اُدھار لئے گئے جس کی وجہ سے قیمت زیادہ بازار سے لی جارہی ہے۔ (۳) دھان اُدھار لئے گئے اور ادائیگی قیمت کیلئے کوئی وقت متعین نہیں کیا گیا بازاری نرخ کا علم نہیں لیکن عبدالغفار نے کہا ۲۵ روپیہ من لونگا۔ (۴)

جواب

(۱) اس طرح گول مول طریقہ پر بیع درست نہیں ہے، پہلے خریدار سے دریافت کر لیا جائے، کہ تم قیمت اب دو گے یا رجب میں دو گے، اگر اس نے کہا کہ اب دونگا تو اس کو بتا دیا جائے کہ ۲۰ روپے قیمت لونگا اگر اس نے کہا کہ رجب میں دونگا، تو اس کو بتا دیا جائے که ۲۵ روپئے قیمت لونگا، غرض ایک بات متعین ہو جائے۔ (۲) اُدھار کی وجہ سے معمولی زیادہ قیمت طے کر لینا درست ہے۔ (۳)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو