الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نادار غریب سے زیادہ قیمت لیکر غلہ فروخت کرنا

سوال

ہمارے یہاں کے مالداروں نے غریبوں کو ستانے کے لئے یہ طریقہ بنالیا ہے کہ جب گرانی میں فاقہ کشی کا وقت آتا ہے اور کوئی غریب کسی مالدار سے چاول وغیرہ قرض مانگتا ہے تو وہ نہیں دیتا اور ان بیچاروں کے پاس اتنے روپے موجود نہیں ہوتے ہیں، کہ جن سے فی الحال اس چیز کو خرید سکیں، تو وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ دیکھو فی الحال مثلاً ایک کوٹل گیہوں کی قیمت چالیس روپئے ہے، تو یہ تم کو وہی ایک کوٹل گیہوں دیں گے، مگر قیمت بجائے عام بھاؤ چالیس روپے کے ساٹھ روپے لیں گے، اور اس روپے کی ادائیگی، کے لئے تم کو دو ماہ کی مہلت بھی دیں گے، چنانچہ…

جواب

نقد اور ادھار کی قیمت میں فرق ہونا شرعاً نا جائز نہیں، تجارت میں یہ فرق شرعاً ورواجاً درست ہے لیکن غریب فاقہ کشی سے عاجز آکر ادھار غلہ لیتا ہے تا کہ اپنے بھوکے بچوں کو کھلا سکے وہ بہت زیادہ قابل رحم ہے، مالدار کی مالداری کا تقاضا یہ ہے کہ وہ غریب فاقہ کش کی امداد کرے اگر اتنا حوصلہ نہیں تو عام نرخ کے اعتبار سے فروخت کر دے، یہ بھی نہیں کر سکتا تو معمولی نفع لے لے زیادہ نفع لینا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو