اُدھار کی وجہ سے قیمت میں زیادتی
سوال
زید نے ایک رکشا چار سو روپے کا خریدا اور زید نے اس رکشے کو ساڑھے چھ سو روپیہ میں دیا اور اس وقت بکر سے زید نے پچاس روپے لیا اور بقایا چھ سو روپیہ ساڑھے بارہ روپے کے ہفتہ کے حساب سے دیتا رہے، جب تک رقم وصول نہ ہو جائے، یہ قسط دیتا رہے گا اور رقم پوری ہو جانے کے بعد رکشا بکر کے نام کر دے گا اس مدت میں رکشا بکر ہی استعمال میں لائے گا، اور توڑ پھوڑ کا ذمہ دار بکر ہی ہوگا، تو اس طرح سودا کرنا درست ہے یا نہیں؟ جبکہ ادھار کی آسانی کی وجہ سے ۴۰۰ کی قیمت ۶۰۰ر ہو گئی۔
جواب
اُدھار کی وجہ سے قیمت میں زیادتی کرنا شرعاً و عرفاً درست ہے، جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں تصریح ہے الا ترى انه يزاد في الثمن لاجل الاجل لیکن اتنی زیادتی نہ کی جائے جو کہ عرفاً قابل برداشت نہ ہو کہ یہ خلاف مروت ہے، فقہاء نے بیع مرابحہ کا مستقل عنوان قائم کیا ہے، اس میں اس کے شواہد موجود ہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔