الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قیمت بڑھا کر قسط وار ادھار بیچنا درست ہے

سوال

کاشت کرنے والوں کیلئے ٹریکٹر بے انتہا ضرورت کی چیز بن گیا ہے، اور یہ چیزیں بازاروں میں نہیں ملتیں ہے بلکہ عالمی بنک سے ٹریکٹر ملتا ہے، جس کی شکل یہ ہے کہ عالمی بینک خریداری کی سہولت کیلئے ٹریکٹر کی رقم کے کئی ہفتے متعین کر دیتی ہے، جس میں خریدار کو متعینہ ہفتہ میں لون کیساتھ رقم دینی پڑتی ہے، تو اس سوال میں قابل طلب دو چیزیں ہیں۔ (۱) عالمی بینک سے ٹریکٹر مذکورہ شکل کے ساتھ خرید سکتے ہیں، یا نہیں؟ (۲) لون سود ہے یا سود کی کوئی قسم ہے یا سود نہیں ہے، جو حقیقت ہو بیان فرمادیں

جواب

(۱) خرید سکتے ہیں، (۲) نقد کے اعتبار سے ادھار کی قیمت عامہ کچھ زیادہ ہوتی ہے، اسطرح قیمت تجویز کر لیجائے، کہ اتنی قسطوں میں پوری قیمت ادا کی جائیگی، اور ہر قسط کی رقم اتنی ہوگی جو کہ نقد سے کچھ زیادہ ہے۔ اس زیادتی کا نام لون ہے، یہ شرعی اصطلاح کے اعتبار سے سود نہیں عالمی بینک جو نام چاہے تجویز کرے احکام شرعی اسکے تابع نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو