کنٹرول کا مال زیادہ قیمت پر فروخت کرنا اور نفع کمانا
سوال
زید ایک تاجر آدمی ہے، اس کے پاس غلہ کی دوکان ہے، نیز آج کل غلہ کنٹرول سے بک رہا ہے، لیکن ہر ایک فرد کو نہیں ملتا اور زید اگر دوسری جگہ سے غلہ خرید کر منگاتا ہے، تو گرفتاری کا خطرہ ہے، چونکہ گورنمنٹ کا یہ اعلان ہے کہ بیس کلو سے زائد کوئی نہیں لاسکتا، اس صورت میں اگر وہ غلہ کنٹرول دوکان سے لینے کے لئے تیار ہے، اور وہ واقعی سستا بھی ہے، جو بازار میں عام ریٹ پر فروخت کر سکتا ہے، آیا شریعت کی رو سے اس کا خریدنا اور اس کا بیچنا کیسا ہے، جب کہ حکومت نے عمر کو گورنمنٹ کا غلہ فروخت کرنے کا امین بنایا ہے، اور آج کل یہ خیانت…
جواب
اگر زید غلہ کنٹرول دوکان سے خرید کر عام ریٹ پر فروخت کرے تو شرعاً جائز ہے، ہاں اگر مقدار معین سے زائد کسی کو دینے کی اجازت نہ ہو تو پھر زائد دینا قانونی جرم ہے، در حقیقت عمر اس غلہ کا مالک نہیں، مالک حکومت ہے، عمر فروخت کرنے کا امین ہے، اس کے لئے قانون کے خلاف کرنا جرم ہے، پھر اگر وہ قیمت حکومت ہی کو دیتا ہے تو زید کا خریدا ہوا وہ غلہ چوری کا مال نہیں اس لئے زید اس کا مالک ہو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔