پلاسٹک کی گڑیاں اور تصویریں بیچنا
سوال
زید نماز اور زکوۃ کا پابند ہے زید حج بیت اللہ میں تھا اس کے بعض ذمہ داروں نے دوکان پر کچھ تصویر، ہولی کی پچکاریاں، چڑیاں، گڑیاں، پلاسٹک وغیرہ کی منگوالیں اور دوسرے سامان کے ساتھ اس کو بھی منگوالی اور فروخت کرنے لگا زید کہتا ہے کہ ان کو فروخت کرنے سے پرہیز لازم ہے، البتہ مہر بند سامان پر اس قدر شدت نہیں برتی جاسکتی کہ وہ عموم بلوٹی میں شامل ہے، اب زید کو اپنا کاروبار کس طرح جاری رکھنا چاہئے تا کہ وہ کھلی ہوئی قباحت سے بچے اور سبب معاش کا طریقہ حلال اور طیب ہو سکے؟
جواب
زید کا یہ خیال بہت مبارک ہے اس کو اپنے سابق طور پر رہنا ہی چاہئے نامناسب چیزوں کی تجارت سے پرہیز کرے خواہ وہ مکروہ کے درجہ میں ہوں، یا حرام ہوں، مہر بند سامان پر کسی چیز کی تصویر ہو تو اس تصویر کی خرید و فروخت مقصود نہیں ہوتی وہ تو محض مارک ہے بخلاف گڑیاں اور جاندار کی تصویر کے کھلونے کہ وہ مقصود ہوتی ہے، فرق ظاہر ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔