الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسلم اور غیر مسلم کا مائک وگراموفون مشترک خریدنا

سوال

اگر کوئی مسلمان اور غیر مسلم دونوں مل کر مشترکہ لاؤڈ اسپیکر مع گراموفون خریدیں تا کہ کرایہ پر چلا کر آمدنی حاصل کریں، اور مسلمان اپنے جلسوں میں کرایہ پر چلا کر آمدنی حاصل کریں، اور غیر مسلم ناٹک شادی وغیرہ میں چلا کر وصول کریں، اور خود لے لیں، یہ دونوں صورتوں کی کمائی کو تقسیم کر لیں، یہ جائز ہے یا نہیں؟ اگر مالک صرف مسلمان ہوں اور یہ اشیاء ہندوکو کرایہ پر دیدیں تو یہ کیسا ہے؟ مدلل مفصل تسلی بخش جواب دے کر ممنون فرماویں، احسان عظیم ہوگا۔

جواب

اس طرح مل کر یہ دونوں چیزیں مشترک خریدنا درست نہیں ہے اگر صلح کر کے گراموفون غیر مسلم کو دے کر لاؤڈ اسپیکر خود مسلمان رکھ لے اگر چہ کچھ نقد بھی دینا پڑے تو بہتر ہے، پھر لاؤڈ اسپیکر جائز جلسوں اور تقریروں میں لے جا کر اس کا کرایہ وصول کر لیا کرے، تو یہ آمدنی درست ہوگی، اگر دونوں چیزیں مشترک دیں، اور مسلمان صرف جائز جلسوں میں اسپیکر کی آمدنی لیا کرے، تب بھی درست ہے، اگر آمدنی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو