پوجا میں کام آنے والی چیزیں فروخت کرنا
سوال
ہمارے محلہ میں ایک عطار طبقہ ہے وہ تمام نا جائز طریقہ سے روزی کماتا ہے، جیسا کہ کافور، سندور، گنیش کی مورتی، نرسودھا، ہندو دیوتاؤں سے جو روزی کمائی جاتی ہے، وہ جائز ہے یا نہیں، براہ کرم آپ جلد سے جلد جواب سے نوازیں؟
جواب
عطار طبقہ اگر ایسی چیزیں فروخت کرتا ہے، کہ وہ غیر مسلم کے پوجا میں بھی کام آتی ہیں، اور خود وہ چیزیں نجس یا حرام نہیں، جیسے کافور تو ایسی چیزوں کی قیمت جائز ہے، اور ان کا مسجد میں دینا درست ہے، اگر مورتی کی تجارت کرتا ہے، تو وہ منع ہے ان سے کہدیا جائے کہ جائز چیزوں کی قیمت سے روپیہ حاصل کر کے دیں، تو مسجد میں لیا جائیگا، ورنہ نہیں اللہ پاک مال کو قبول فرماتے ہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔