باغ فروخت کر کے کچھ آم مستثنیٰ کرنا
سوال
زید ایک باغ نیلام کرتا ہے، اور نیلام کے لئے کچھ شرائط مقرر کرتا ہے، مثلاً (۱) اس کی قیمت کے علاوہ چارمن آم کچے اور دو من پکے لئے جائیں گے، ان آموں کا دارو مدار قیمت پر ہوتا ہے، اگر دام کم ہوں گے تو آم زیادہ لئے جائیں گے، اگر دام زیادہ ہوں گے تو آم کم لئے جائیں گے، (۲) نصف قیمت ایک ہفتہ میں اور نصف قیمت آم پکنے کے بعد لی جائے گی وغیرہ وغیرہ تو یہ صورتیں جائز ہیں یا نہیں؟
جواب
اگر یہ شرط ہے کہ آم اسی باغ پر لئے جائیں گے تو درست نہیں، کہ یہ استثناء باطل ہے جس کو قدوری، ہدایہ وغیرہ جملہ کتب فقہ میں منع لکھا ہے، اگر اس باغ کے آم ہونا شرط نہیں اور قسم آم کی متعین کر لی جائے، کہ جہالت مفضی الی النزاع مرتفع ہو جائے تو ان کو جز ثمن قرار دیا جائے گا، اور بقیہ مذکورہ شرائط طرفین کی اجازت سے طے شدہ سب جائز ہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔