بازار سے پھل خریدتے وقت تحقیق کی ضرورت
سوال
آج کل جو آم بازاروں میں فروخت ہوتے ہیں ان کے متعلق معلوم نہیں کہ خریدار نے جو باغ خریدا ہے کس وقت خریدا ہے، آیا زمانہ کو ہر میں خریدا ہے، ایسی حالت میں بازار سے آم خرید کر کھانا جائز ہے یا نا جائز؟
جواب
اگر یہ تحقیق اور ظن غالب ہو کہ اس بائع نے بیع باطل سے خریدا ہے تو اس کا خریدنا نا جائز ہے، اگر اس کی تحقیق یا ظن غالب نہ ہو تو اس کے خریدنے میں گنجائش ہے، ” وحمل فعل المسلم على الصحة والحل واجب ما امكن الا ان تقوم البينة اھ مبسوط سرخسی، ص ۷۲۵ ج ۱۷ / “
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔