الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زندہ درخت کی بیع اور اس سے اگنے والی شاخوں کا حکم

سوال

زنده درخت بغیر زمین کے زید نے بکر کو فروخت کیا بکر عرصہ دراز سے اس پر قابض ہے اس درخت سے لکڑیاں وغیرہ زید ہی لیتا رہا ہے، مذکورہ صورت میں دریافت کرنا ہے کہ زندہ درخت کا بغیر زمین کے بیچنا اور اس کو بائع کی زمین پر اس طرح عرصہ تک رکھ کر لکڑیاں حاصل کرنا کہ نئی نئی شاخ اور اصل درخت کا بڑھنا جو عند البیع مجہول تھا اس کا حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

اگر کاٹنے کے لئے فروخت کیا گیا اور مشتری کا مقصود بھی کاٹنا ہی ہے تو اس کے ذمہ لازم ہے کہ اپنا درخت کاٹ کر بائع کی زمین کو خالی کر دے اگر برقرار رہنے کے لئے بیچ ہوئی ہے، یا کوئی تذکرہ ہی نہیں آیا ہے، کہ یہ بیچ قطع کے لئے ہے یا برقرار رکھنے کے تو ان دونوں صورتوں میں درخت کا جو حصہ زمین کے اندر ہے وہ بھی ملک مشتری ہوگا، اور اس کی جڑ سے متصل زمین کا حصہ بھی ملک مشتری ہوگا، اگر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو