فون پر بیع
سوال
یہاں دوکانیں کافی دور ہیں، فون پر سودا لکھا دیا جب تیار ہو کر بوری بندھ گئی، تو ملازم جا کر لاتا ہے، حضرت مفتی رشید احمد صاحب نے فرمایا کہ اگر خریدار بوقت وزن مبیع موجود نہ ہو تو اس کا ظرف ہونا چاہئے اور فرمایا کہ یہ امر تصدی ہے، حضرت مفتی شفیع صاحب نے فرمایا اگر مشتری کے نزدیک بائع قابل اعتماد ہو تو خود موجود ہونا ضروری نہیں ہے اور ظرف بائع کی طرف سے ہونے کی قید نہیں لگائی، اپنی تحقیق سے مطلع فرمائیں؟
جواب
اس سے بھی آسان طریقہ یہ ہے کہ بیع بشرط الکیل والوزن نہ ہو بلکہ یہ کہدیا جائے کہ اتنے روپے کی فلاں چیز دیدو ہمارا آدمی آکر لے جائیگا یا آپ اپنے آدمی کے ہاتھ بھیجدیں یہ بحث ہی نہ ہو کہ کس نرخ کا ہے، پھر بوری یا تھیلا کسی کا بھی ہو سب طرح درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔