باغ کے درخت کی بیع مکرر
سوال
زید نے ایک درخت بکر سے خریدا طے شدہ رقم بھی بکر کو دیدیا بوجہ تنگدستی زید اسے جلدی نہ کٹو اسکا، چند دنوں بعد عمر وغیرہ نے بکر کو کچھ الٹا سیدھا پڑھا کر کچھ قیمت بڑھا کر مذکورہ درخت کو دوبارہ خرید کر اسے لکھوالیا اور درخت کٹوانا شروع کر دیا، زید کو اطلاع ملی تو اس نے عمر وغیرہ کو روکا اور کہا کہ یہ درخت میں خرید چکا ہوں تم کو کٹوانے کا حق نہیں ہے مگر چونکہ عمر وغیرہ صاحب اثر شخص ہیں زید کی فریاد کو ٹھکرادیا اور درخت کٹوالے گئے، بلکہ زید کا روپیہ ابھی تک بکر کے ذمہ باقی ہے، بتلائیے کہ ایسے شخص کے لئے شرعاً کیا حکم…
جواب
جب بکر سے زید نے درخت خرید لیا اور طے شدہ رقم (قیمت) بھی دیدی تو پھر بکر کو کسی اور کے ہاتھ فروخت کرنے کا حق نہیں رہا ہے بکر نے جس کے ہاتھ فروخت کیا وہ بیع زید کی رضا مندی واجازت پر موقوف ہے، اب بہتر یہ ہے کہ زید اجازت دیدے اور بکر سے قیمت لیلے بکر نے دو جگہ سے قیمت وصول کی ہے، یہ اس کے لئے جائز نہیں ہے، اگر وہ زید کو قیمت نہیں دے گا تو خائن و غاصب ہوگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔