بیع پر بیع
سوال
حضرت مفتی صاحب سلام مسنون! عرض ہے کہ عمر نے بکر سے ایک زمین و مکان پچھتر ۷۵/ ہزار روپے میں خرید لیا اور اس کی قیمت ادا کرنے کے لئے ایک مدت متعینہ طے کر دی کہ اس مدت میں کامل رقم تم کو ادا کر دیں گے، اور اس وقت تحریری خریدی دستاویز سرکاری طور پر بھی رجسٹرڈ کر لیا جائیگا، اور فی الحال خرید وفروخت کا معاملہ طے ہونے کے بعد ۵۰۰۰ ہزار روپے عمر نے بکر کو دیدیئے اور دس روز کے بعد مزید دس ہزار کی رقم مکان کی قیمت کے ماتحت عمر نے بکر کو دی گویا کل پندرہ ہزار کی رقم مکان کے ضمن میں عمر نے بکر کو دیئے اس کی اطلاع زید کو ہوئی…
جواب
ایجاب و قبول سے بیچ منعقد ہو جاتی ہے یا تحریری بیع نامہ قانونی رعایت کے پیش نظر ہوتا ہے، جب کہ بیع ہو گئی اور قیمت کا بھی ایک حصہ دے دیا گیا، تو پھر بائع کو اس کے فروخت کرنے کا حق نہیں ہے رہا بیچ ثانی غلط ہوئی مشتری ثانی کولازم ہے کہ اس بیع کو واپس کر دے، پندرہ ہزار کی رقم بیع اول کی قیمت کا جز ہے، اسکو بلا وجہ رکھنے کا کوئی حق نہیں ہے اگر اول مرتبه محض وعدہ بیع تھا کہ جملہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔