فصل پر جو غلہ کا نرخ ہو اس حساب سے خریدنا
سوال
ہمارے اطراف میں غریب کو غلہ اس شرط پر دیتے ہیں کہ آج سے دو ماہ کے بعد جو غلہ کا بھاؤ ہوتا ہے، اسی حساب سے اس غلہ کی قیمت لوں گا، یا اس قیمت کا جو غلہ ہوگا وہ لوں گا، اسی طرح مکئی اس شرط پر دیتے ہیں کہ دو تین ماہ کے بعد اس کے عوض میں اتنا ہی چاول لونگا۔
جواب
اگر اس طرح قیمت لینا تجویز ہو تو وہ بوقت عقد مجہول ہے، اور جہالت ثمن مفسد بیع ہے، اگر قیمت میں غلہ لینا قرار پائے جس کا نرخ بھی وقت عقد معلوم نہیں، تو اس میں جہالت شمن کے ساتھ قیمت غلہ قرار دینے کی وجہ سے غلہ کی بیع غلہ سے ہوئی جو کہ نہ یدا بید ہے، اور نہ مثلاً بمثل، اگر مکئی کے عوض چاول لینا طے ہو اس میں پیدا بید نہیں کہ ربانیہ ہے، ” وعلته ای علة تحريم الزيادة القدر مع الجنس…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔