دوسرے کے درخت فروخت کر کے قیمت خود رکھنا
سوال
زید و عمر دو اشخاص کا ایک مشترک باغ تھا جس کے سرکاری وذاتی کاغذات تھے، باہم رضامندی سے بٹوارہ ہو گیا، اور تقسیم کے بعد دونوں کے حصے کاغذات میں درج ہو گئے، مگر ۳۵ درختوں کی ایک قطار کے سلسلہ میں زید کا یہ رویہ رہا کہ ہر فصل یہ کہہ کر فروخت کر لیتے ہیں کہ یہ میرا حصہ ہے، اور زید کو ایسا کرتے ہوئے دس سال ہو گئے، اس درمیان ان درختوں کی آمدنی تقریباً بائیس ہزار روپیہ ہے، عمر چاہتا ہے کہ زید سے اپنی یہ تمام رقم وصول کرلے، لہذا از روئے شرع اس رقم کو وصول کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
جبکہ زید کو اس بات کا اقرار ہے کہ یہ درخت عمر کے ہیں، اور عمر نے اسکو اجازت نہیں دی کہ وہ اسکے درختوں کو فروخت کر کے اسکی قیمت خود رکھے، تو زید کے ذمہ لازم ہے کہ وہ قیمت عمر کو دیدے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔