مول پر آم کی بیع
سوال
آج کل جو آم اور دیگر پھل خریدے جاتے ہیں ان کی عموماً بیع نا جائز ہوتی ہے، کیونکہ اکثر اس طریقہ سے خریدے جاتے ہیں کہ آم چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں، اسی وقت خرید لیتے ہیں، اور بعضے مول آتے آتے خرید لیتے ہیں، جب بیع نا جائز ہو چکی تو پکنے کے بعد جو خرید کر کھائے جاتے ہیں، ان کا کھانا جائز ہے یا نہیں، اگر جائز ہے تو کیا وجہ؟ جب بیع اول باطل ہو چکی، اگر نا جائز ہے تو کیا وجہ اس کے اندراکثر علماء بھی شرکت فرماتے ہیں، کیا کوئی وجہ جواز کی اس میں نکلتی ہے؟
جواب
مول پر آم کی بیع باطل ہے، ایسی بیع کے خریدے ہوئے آم کھانا اور خریدنا منع ہے، جس کو بھی معلوم ہو خواہ وہ عالم ہو یا جاہل اس کا خریدنا نا جائز ہے، ہاں اگر درخت پر آم آچکے ہیں اور ان کی کچھ قیمت مل سکتی ہے تو ان کی بیع درست ہے لیکن اسی وقت ان کا توڑنا لازم ہے اگر بائع کی مرضی کے خلاف ان کو نہ توڑا تو جس قدر زیادتی آموں میں ہوگی، وہ مشتری کی ملک میں نہ ہوگی، بلکہ بائع کی ہوگی اور…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔