الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

پھل کی بیع پکنے اور بڑے ہونے سے پہلے

سوال

ہمارے دیار میں یہ رواج ہے کہ آم درخت پر جب چھوٹے چھوٹے ہی رہتے ہیں تو مالکان اسے فروخت کر دیتے ہیں، اور پک جانے کے بعد مشتری (خریدار) اپنے کام میں لاتا ہے، تو کیا اس طرح بیع و شراء (خرید و فروخت) جائز ہے۔

جواب

اس طرح باغ کو خرید نا درست ہے لیکن مشتری (خریدار) کے ذمہ واجب ہے کہ فوراً آم توڑلے اور اور بائع (بیچنے والا) کے درخت سے اپنی ملک علیحدہ کرلے، اگر خریدتے وقت شرط کر لی ہے، کہ آم پکنے تک درخت پر لگے رہیں گے اور پکنے کے بعد توڑوں گا تو یہ شرط فاسد ہے، اور مفسد بیچ ہے، ہاں اگر بیچ میں شرط کا کوئی ذکر نہ ہوا اور بیچ کے بعد بائع سے اجازت لے لی جائے تو جائز ہے، ومن باع ثمرة لم يبد…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو