بازار میں فروخت ہونے والے پھلوں سے افطار
سوال
ہمارے شہر میں یہ رواج ہو گیا ہے کہ اکثر و بیشتر آم وامرود و بیر وغیرہ کی بیع پھول اور پھل آنے سے قبل کر دی جاتی ہے، اس قسم کا پھل کھانا حرام یا مکروہ ہے، حضرت تھانوی کے متعلق معلوم ہوا کہ وہ اس قسم کے پھل نہیں کھاتے تھے، مگر دور حاضر کے علماء وصلحا واتقیاء کی اکثریت اس قسم کے کھانے سے قطعاً احتراز نہیں کرتے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام اس کو بلا تکلف کھاتے ہیں، اور نا جائز بھی نہیں سمجھتے ہیں، تو کیا اس کی وجہ سے کچھ گنجائش نکل آئی ہے، اور حرمت میں کچھ تخفیف ہوگئی ہے، نیز رمضان المبارک میں اس قسم کے پھلوں سے افطار…
جواب
یہ بیع باطل ہے جس پھل کے متعلق پختہ معلوم ہو کہ اس کی بیع باطل ہوئی ہے، اسکا کھانا جائز نہیں نہ افطار میں نہ بغیر رمضان کے حضرت تھانوی قدس سرہ کے متعلق یقین ہے کہ وہ ایسا پھل نوش نہیں فرماتے تھے، مگر یہ بھی صحیح نھیں کہ وہ پھل بالکل ہی نوش نہیں فرماتے تھے، اگر کاشت کی زمین کو سال دو سال کیلئے اجارہ پر لے لیا جائے، تو اس کی پیدا وار درست ہے بہت سے لوگ یہ معاملہ کرتے ہیں، اس لئے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔