بڑے کے گوشت کو بکرے کا گوشت بتا کر فروخت کرنا
سوال
(۱) ایک شخص یا دو چار لوگ یہ کام کرتے ہیں کہ بکرے کا گوشت فروخت کرتے ہیں اور اس کے ساتھ بڑے یعنی بیل بھینس وغیرہ کا قیمہ بکرے کا کہہ کر فروخت کرتے ہیں، اور ایسا کرنے کے باوجود وہ لوگ مال زکوۃ یا قربانی یا حج وغیرہ کرتے ہیں تو یہ درست ہے یا نہیں؟ (۲) دو چار لوگ وہ قیمہ تیار کر کے اپنی دوکان پر رکھتے ہیں، اور وہ جانتے ہیں کہ یہ لوگ اس کو بکرے کا کہہ کر فروخت کریں گے، مندرجہ بالا لوگوں کو واضح کرانے کے باوجود بھی کہ آپ ایسا کرتے ہیں تو ایسا ہوتا ہے ان لوگوں کے بارے میں تحریر فرمائیے کہ ان کا حج، زکوة، قربانی وغیرہ…
جواب
جھوٹ بولنا اور دھوکہ دینا حرام ہے، اس روپے سے جو زکوۃ دیتے ہیں اور حج کرتے ہیں تو فریضہ ادا ہو جاتا ہے، جھوٹ اور دھوکہ دینے سے توبہ لازم ہے۔ (۲) اگر وہ خود دھوکہ نہیں دیتے تو ان سے خرید کر دھوکہ دینے والوں کی ذمہ داری ان پر نہیں اگر چہ وہ جانتے ہوں کہ یہ دھوکہ دیں گے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔