غیر کی زمین کو فروخت کرنا
سوال
تیس سال قبل حامد نے خالد کو ایک قطعہ زمین قبولیت لے کر مالک بنا دیا، خالد چند دن تک دخل لیکر اپنے نابالغ لڑکے رحیم کو چھوڑ کر مر گیا، لیکن رحیم مجبوری کی وجہ سے دوسری جگہ چلا گیا، مذکورہ حامد نے بارہ سال بعد دوبارہ اسی زمین پر دخل لے کر اپنے نام کرالیا اور بارہ سال بعد قاسم کے ہاتھ فروخت کر دیا، ایسی صورت میں قاسم کیلئے از روئے شریعت مذکورہ زمین پر قبضہ کرنا، نفع اٹھانا جائز ہوگا یا نہیں، اور رحیم کی ملکیت زائل ہو گئی کہ نہیں؟
جواب
اگر حامد نے وہ زمین خالد کے ہاتھ فروخت کر دی تھی، تو خالد اس کا مالک ہو گیا تھا پھر خالد کے انتقال کے بعد وہ زمین بطور ترکہ ورثہ کی ہوگی، اگر اس کا وارث صرف ایک لڑکا ہے تو وہی وارث اور مالک ہے، اس کے کسی دوسری جگہ چلے جانے سے اس کی ملک ختم نہیں ہوئی، پھر حامد کا بغیر کسی وجہ شرعی کے اس زمین کو اپنے نام کر لینا غصب اور ظلم ہے، اس سے وہ مالک نہیں ہوا پھر قاسم کے ہاتھ اس کو فروخت…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔