آبپاشی پانی کی بیع کی ایک صورت
سوال
محکمہ آب رسانی پانی کی قیمت وصول کرتا ہے مگر پانی کی مقدار کچھ تعین نہیں اس کا کوئی میٹر وغیرہ نہیں بلکہ فی پلاٹ سالانہ معاوضہ پانی کا متعین ہے، محکمہ کی طرف سے شرط یہ ہے کہ ایک پلاٹ کا پانی دوسرے پلاٹ میں بالعوض یا بلا عوض نہ دیا جائے، اس صورت میں محکمہ کی اس شرط کی پابندی شرعاً لازم ہے یا کہ دوسروں کو پانی دینے کی گنجائش ہے، اگر گنجائش رہے تو اپنی ٹنکی وغیرہ میں پانی کے اخراج سے قبل اس پانی کی بیع درست ہے یا نہیں، جو سرکاری لائن سے گھر کی لائن میں آرہا ہے؟
جواب
قبل القبض بیچ کا نا جائز ہونا کتب فقہ میں مصرح ہے لیکن اگر اسکو اجارہ قرار دیا جائے، اور ثمن کو اجرت کہا جائے، تو مطلب یہ ہوگا کہ فلاں پلاٹ میں مشین کے ذریعہ پانی پہنچانے کی اجرت یہ ہے، مستاجر کو اس کا حق ہے کہ دوسرے کو منفعت حاصل کرنے کا حق دیدے بالعوض ہو یا بلا عوض جیسا کہ درمختار وغیرہ میں تصریح ہے، لیکن خلاف قانون کرنا جس سے عزت یا مال کا خطرہ لاحق ہو قرین دانشمندی نہیں ہے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔