الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

باغ کی بہار خریدتے وقت یہ شرط لگانا کہ اتنے بہار دینے ہونگے

سوال

ایک شخص نے آم یا کوئی دوسرا باغ بیچتے وقت باغ کی بہار لینے والے سے یہ کہا کہ میں مثلاً دو ہزار روپے لونگا، اور پانچ من آم لونگا، تو کیا ایسی بھی کوئی صورت ہے جس میں جنس لینا درست ہو؟

جواب

اگر پانچ من آم کی صفات ایسی طرح بیان کر دی گئیں ہیں کہ کوئی خلجان نہیں رہا ہے اور یہ شرط نہ کی گئی کہ اس باغ کے یا فلاں درخت کے ہوں گے بلکہ خریدنے والے کو اختیار ہے کہ وہ بازار سے خرید کر دیدے تو یہ معاملہ اس طرح درست ہے یہ پانچ من آم مستثنی نہیں بلکہ جزو ثمن ہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو