الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

خریدے ہوئے مال پر قبضہ کرنے سے پہلے بیع

سوال

(۱) زید نے باہر سے مال برائے تجارت بذریعہ بینک منگایا، مال آجانے پر زید چھڑا نہیں سکا مال چھوٹا نہیں، جس قدر زید سے تاخیر ہوئی، اسی قدر اس پر محصول روز بروز بڑھتا جاتا ہے، زید نے بکر سے کہا میں نے اپنا مال جو منگایا ہے چھڑا نہیں سکتا ہوں، اس لئے اس مال کو بلا منافع تمہارے ہاتھ فروخت کرتا ہوں، جو بلٹی بذریعہ بینک آئی ہے، تم اس کو خرید لو، بکر نے اس مال کا روپیہ اور جو کچھ اس پر محصول تھا، سب کچھ ادا کر کے مال کو اپنے قبضہ میں کر کے سنبھال لیا، اس کے بعد بکر نے زید کے ہاتھ پر وہی مال منافع سے فروخت کر دیا، منافع…

جواب

مندرجہ بالا طریقہ خلاف شرع و نا جائز ہے جب تک زید اس مال پر اپنا قبضہ نہ کرے اس کو فروخت نہیں کر سکتا ہے جواز کا طریقہ یہ ہے کہ کسی سے قرض لے کر اول مال چھڑالے، پھر جس کے ہاتھ جس قیمت پر چاہے فروخت کرے، روزانہ کی بکری کا مطالبہ بھی صورت مسئولہ میں نا جائز ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو