الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بھیک کے مال کی فروختگی

سوال

جو لوگ سوال کرتے ہیں، یعنی بھیک مانگتے ہیں اور اس غلہ کو دوکانوں پر فروخت کرتے ہیں، تو وہ غلہ دوکاندار کو خرید نا درست ہے یا نہیں؟

جواب

کسی نے بھیک مانگ کر جو غلہ جمع کیا ہے، وہ اس کا مالک ہو گیا، جب دوکان پر لے جا کر فروخت کرتا ہے تو دو کا ندار کو اس کا خریدنا درست ہے۔ تنبیہ:جس کے پاس ایک دن کا کھانا موجود ہو اس کو بھیک مانگنا جائز نہیں، اس لئے اس پیشہ کو ترک کرنا ضروری ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو