بیش قیمت چیز کم قیمت پر خریدنا
سوال
ایک فرضی مسئلہ دریافت ہے تا کہ اس کے ذریعہ اس کی مثال کا جواب مستنبط ہو جائے جو وقتاً فوقتاً پیش آتی رہتی ہیں، وہ یہ کہ مثلاً ایک شخص زید عمرو کے پاس ایک قیمتی چیز (جسکی قیمت تقریباً سو دو سو تک ہوگی) لایا اور کہا کہ یہ میری چیز ہے میں کسی ضرورت کے بناء پر اس کو فروخت کرنا چاہتا ہوں تم خرید لو عمرو نے انکار کیا کہ میرے پاس اتنی رقم نہیں ہے میں نہ لونگا، اس پر زید نے کہا کہ جو کچھ تم اس کی قیمت دیدو میں اسے فروخت کر دونگا، عمر نے کہا میں پانچ روپیہ میں لے سکتا ہوں زید نے فروخت کر دیا، اور چلا گیا اس کے چلے جانے کے…
جواب
اگر ظن غالب یہ ہے کہ یہ قیمتی چیز چوری کی ہے جو اس قدر ارزاں فروخت کرتا ہے، تو اس کا خریدنا جائز نہیں۔ فتاوی رشیدیہ، ص ۱۰۹ رج ۲ میں اس کی تصریح ہے، اگر خرید لی اور واپسی دشوار ہے اور مالک کا پتہ نہیں، تو صدقہ کر دے اگرظن غالب یہ نہ ہو تو اسکا خریدنا شرعاً درست ہے، الایری ان اسواق المسلمين لا تخلوعن المحرم والمسروق والمغصوب ومع ذلك يحل التناول اعتماداً على الغالب وهذا لان…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔