ایک شہر سے دوسرے شہر میں مال تجارت منتقل کرنا
سوال
ایسی تجارت کے تعلق سے کہ گورنمنٹ ضلع بندی کرتی ہے اور اپنی جگہ سے دوسری جگہ کو مال یعنی غلہ وغیرہ لیجانے کو مجرم قرار دیتی ہے، اسکے باوجود تاجر لوگ غیر قانونی حرکت کر کے نگراں کاروں کو رشوت دیکر ایک جگہ سے دوسری جگہ میں غلہ وغیرہ منتقل کر کے تجارت کرتے ہیں تو ایسی تجارت شرعاً جائز ہے یا نہیں اگر نا جائز ہے تو جائز ہونے کی کیا صورت ہے کیا ایسا تاجر عند اللہ مجرم قرار دیا جائے گا یا نہیں اور جو ایسی تجارت سے نفع حاصل کیا جاتا ہے تو اب حاصل کرنے کی نیت سے کار خیر میں خرچ کیا جاسکتا ہے یا نہیں اس میں سے زکوۃ صدقہ فطر…
جواب
جو شخص جو مال موافق شرع خرید کر مالک ہو جائے اس کو اس کے ہر جگہ فروخت کرنے کا پورا حق حاصل ہے کہ اس فروخت کرنے سے جو روپیہ ملے وہ اس کا مالک ہو جائیگا حسب ضابطہ اس پر زکوۃ بھی واجب ہوگی قربانی بھی واجب ہوگی، ایسے مال کو کار خیر میں صرف کرنا بھی درست ہوگا، مگر اس کا لحاظ بھی ضروری ہے کہ قانونی خلاف ورزی کر کے اپنے مال اور عزت کو خطرہ میں ڈالنا ہرگز دانشمندی نہیں اور رشوت دینا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔