ایک روپیہ میں ڈیڑھ روپیہ کا سامان دینا
سوال
اگر کوئی بائع کسی کو رعایہ ایک روپیہ میں ۸ کا مال دیدے تو مشتری آٹھ آنہ اگر اس بہانہ سے کہ مجھ پر قرض ہے، بائع کو دیدے جبکہ بائع کسی دوسری تدبیر سے لینے کو تیار نہ ہو تو یہ فریب جائز ہے کہ نہیں؟
جواب
جب بائع قصداً رعایت کر کے ایک روپیہ میں ڈیڑھ روپیہ کا مال دے رہا ہے تو یہ آٹھ آنہ اسکے قرض نہیں ان کو قرض کہنا غلط ہے، اور خلاف واقعہ ہے اگر رعایہ کا بدل کرنا ہی ہے تو ہدیہ کچھ اس کو دیدے جس سے اس کا ذہن بھی منتقل نہ ہو۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔