سود سے بچنے کے لئے بیع کی اصل قیمت پر زیادتی کا معاملہ کرنا
سوال
ہمارے یہاں بازار کا عرف یہ ہے کہ ہر آڑت دار کے بارے میں مزدور اور کاریگر بھی بائع یہ جانتا ہے کہ قیمت اسکو نقد نہیں ملے گی، نیز ہر آڑت دار کا طریق جدا جدا ہے کوئی پندرہ بیس دن کے بعد قیمت بصورت نقد چکا دیتا ہے، کوئی کچھ نقد دیتا ہے اور کچھ کے بدلے سوت دیتا ہے، کوئی کل کا سوت دیتا ہے، یہ تمام تفصیلات قریب قریب فی الجملہ تمام کاریگروں کو ہر آڑت دار کے بارے میں معلوم رہتی ہیں، مزدور چاہے طوعاً چاہے کرہا مگر معاملہ اسی طریقہ سے رکھتے ہیں اور لین دین جاری رہتا ہے، لیکن جو لوگ نقد کے بجائے سوت دیتے ہیں، وہ کچھ اپنے من…
جواب
اصل قیمت نقد لازم مگر بجائے اس نقد کے سوت دیتا ہے اور سوت بازاری نرخ سے کچھ فرق کے ساتھ دیتا ہے، تو اس کا معاملہ اس فرق کے ساتھ طے کر لینا بھی درست ہے ناجائز نہیں بصورت شرکت اس قسم کی رقم ملے تو وہ بھی ناجائز نہیں۔ جواب صحیح ہے اور توضیح یہ ہے کہ کپڑے کی نقد قیمت طے متعین ہو کر بائع کو بھی معلوم ہو چکی ہو۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔