الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کم قیمت میں خرید کر زیادہ قیمت میں فروخت کرنا

سوال

زید نے گڑ چالیس روپے من خریدا دو ماہ بعد گڑ کا بھاؤ چھتیس روپے فی من ہو گیا، ایک شخص عمر نے زید سے بطور قرض سو روپیہ مانگے زید نے اس کو سو روپیہ نقد تو نہ دیئے بلکہ وہی گڑ جو چالیس کے بھاؤ خریدا تھا، ۴۰ کے بھاؤ سے ہی دیدیا جب کہ اب بھاؤ موجودہ چھتیس روپے ہے کیا زید نے یہ ٹھیک کیا؟

جواب

اگر عمر نے زید سے روپیہ قرض مانگا اور زید نے روپیہ نہیں دیا بلکہ گڑ چالیس روپے من دیا، یعنی فروخت کر دیا اور عمر نے اس کو لے لیا یعنی خرید لیا تو شرعاً یہ بیع درست ہوگئی ہے عمر کے ذمہ چالیس روپیہ من کے حساب سے خریدے ہوئے گڑ کی قیمت لازم ہوگی اگرچہ اس گڑ کی قیمت چھتیس روپے من بازار میں ہے اور زید نے چالیس روپیہ من خریدا تھا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو