الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زیادہ بھاؤ پر خریدنا

سوال

(۱) گیارہ آدمی ساڑھے اکتالیس من دھان خرید کر لے جا رہے ہیں جسکی قیمت گیارہ سو بارہ سو روپے ہوگی، جب وہ گیارہ آدمی ہمارے گاؤں پہنچے تو گاؤں کے کچھ لوگوں نے انکے تمام دھان بیل کی پیٹھ سے اتار لیا اور کہا کہ بتاؤ تم لوگوں نے تمیں روپے من دھان کیوں خریدا، حالانکہ بازار کا بھاؤ اٹھائیس روپے تھا، تم لوگوں نے دو روپیہ زیادہ کر دیا، آج چھوڑینگے نہیں، تمام لوٹ لینگے، سارا دن ان گیارہ آدمی کے اوپر ظلم کیا، کیا اس طرح پر شریعت نے جائز رکھا ہے، کہ دوسرے مسلمان بھائی کو اس طرح پریشان کیا جائے؟ (۲)

جواب

(۱) یہ بھی سخت ظلم کیا گیا، ظالم کو مرنے سے پہلے دنیا میں بھی ظلم کا وبال بھگتنا پڑتا ہے، اس پر لعنت بھی آئی ہے عن ابی بکر الصدیق قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ملعون من ضار مومنا او مكر به مشکوة شریف، ص ۴۲۸/ (۲) عالم کا منصب یہ تھا کہ مسئلہ صحیح بتا کر ظالموں کو ظلم سے باز رکھتے مگر انہوں نے ظالموں کی تائید کی، یہ بہت بڑا ظلم ہے، اناللہ وانا اليه راجعون۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو