الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قبر پر ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا اپنی زندگی میں مردہ سمجھ کر ایصال ثواب کرانا

سوال

قبر پر خواہ صالح کی ہو یا عام قبر ہو بغیر ہاتھ اٹھائے دعا مانگنا کیسا ہے؟ جیسا کہ رسم و رواج ہے کہ فاتحہ پڑھو۔ (۲) بعض لوگ اپنی حیات میں تیجہ، چالیسواں، برسی،ختم قرآن، صدقہ اپنی روح کو کراتے ہیں، اور اپنے آپ کو پھر مردہ سمجھتے ہیں، اور کسی کے یہاں وہ موت و زندگی میں شریک نہیں ہوتے، اور نہ میت کا کھانا کھاتے ہیں، اسی خیال سے اپنا فاتحہ اپنی زندگی میں کروا ڈالتے ہیں، کہ مرنے کے بعد کوئی فاتحہ کرے یا نہ کرے، کیا حیات میں بھی دوسروں سے اپنی روح کو ایصال ثواب پہنچوانے کے لئے اپنے نام قرآن پڑھوا کر بخشوانا جائز ہے؟

جواب

نفس ایصال ثواب بغیر التزام تاریخ یوم و هیئت وغیرہ کے زندہ کیلئے بھی درست ہے اور مردہ کے لئے بھی درست ہے، مگر تیجہ، چالیسواں، برسی، فاتحہ مروجہ وغیرہ یہ سب چیزیں شرعاً بے اصل، بدعت اور نا جائز ہیں، ان سے اجتناب واجب ہے، ایصال ثواب کے لئے جو کھانا دیا جاتا ہے وہ غرباء ومساکین کو دینا چاہئے، مالدار کو نہیں، کسی کے یہاں موت اور زندگی میں بلا وجہ شریک نہ ہونا اور سب سے قطع تعلق کر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو